نئی دہلی،28اگست؍(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)دہلی ہائی کورٹ میں دائر ایک درخواست میں ’’آپ‘‘ حکومت اور کارپوریشنز پر الزام لگایا گیا ہے کہ ڈینگو کنٹرول کرنے کے لئے وہ مستعدی اور ذمہ داری سے کام نہیں کر رہے ہیں۔ڈینگو مچھرمہلک بیماری ہے۔قومی دارالحکومت میں ڈینگو کے بڑھتے ہوئے معاملات اور اس بیماری کی وجہ سے ہونے والی اموات کے پیش نظر ایک وکیل نے یہ مفاد عامہ عرضی دائر کی ہے۔پٹیشن پر سماعت شاید اگلے ماہ ہوگی۔درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ اس سال ڈینگو کے 320معاملات کے سامنے آنے کے باوجود منسلک حکام کی نیند نہیں کھلی اور بیماری کو پھیلنے سے روکنے یا مچھروں کے عمل کو روکنے کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھائے گئے۔وکیل شاہد علی نے کہا کہ گزشتہ پانچ سال کے مقابلے اس سال دہلی میں ڈینگو کی وجہ سے حالات زیادہ خراب ہیں،ایسا اس لئے کیونکہ تینوں کارپوریشن، خاص طور پر جنوبی دہلی میونسپل کارپوریشن اور دہلی حکومت اپنے قانونی فرض کو ادا کرنے میں ناکام رہے ہیں،جبکہ بیماری پر کنٹرول کے لئے دفاعی اقدامات کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔پٹیشن میں دہلی حکومت اور قانونی اداروں کو ڈینگو پر کنٹرول کرنے کی ہدایات دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے ساتھ ہی اس بارے میں تحقیقات کرنے کی بھی مانگ کی گئی ہے کہ کیا حکومت اور باڈی اس پر کنٹرول کر سکتے تھے اور کیا وہ ڈینگوکے مچھروں کی پیدائش کو روک سکتے تھے؟ درخواست میں یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ بیماری پر کنٹرول کرنے کے لئے موثر قدم اٹھانے کے لئے دہلی حکومت نے اداروں کو کافی رقم دی تھی یا نہیں۔اس میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ غیر منظورشدہ علاقوں میں دواؤں اور دھوئیں کا چھڑکاؤ کیوں نہیں کیا گیا۔